ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جموں و کشمیر : جس جھڑپ کے زخمیوں کا دن بھر علاج کرتا رہا ڈاکٹر ، اسی میں چلی گئی بیٹے کی جان

جموں و کشمیر : جس جھڑپ کے زخمیوں کا دن بھر علاج کرتا رہا ڈاکٹر ، اسی میں چلی گئی بیٹے کی جان

Sun, 01 Jul 2018 23:59:20    S.O. News Service

سری نگر یکم جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) جموں و کشمیر میں سنگ باروں اور سیکورٹی فورسیز کے درمیان جھڑپ میں زخمی ہوئے لوگوں کا علاج کررہے ڈاکٹر کے بیٹے کی موت بھی اسی جھڑپ میں ہوگئی۔ پلوامہ ضلع اسپتال میں تعینات ڈاکٹر عبد الغنی خان دن بھرزخمیوں کا علاج کرنے کے بعد اپنے کوارٹر میں لوٹے ہی تھے کہ انہیں فورا اسپتال واپس آنے کیلئے کہا گیا۔ جب وہ اسپتال پہنچے تو انہیں خبر دی گئی کہ اسی جھڑپ میں ان کے 16 سالہ بیٹے فیضان احمد کی بھی موت ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو پلوامہ کے تھمنہ گاوں میں دہشت گردوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے دوران سیکورٹی فورسیز پر پتھراو کیا گیاتھا، جس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی میں کئی افراد زخمی ہوگئے اور ان میں فیضان بھی شامل تھا۔ مڈبھیڑ میں لشکر طیبہ کا ایک دہشت گرد مارا گیا۔

فیضان کو سنگین حالت میں راجپورہ کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ، لیکن حالت زیادہ نازک ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے انہیں ضلع اسپتال منتقل کردیا۔ ضلع اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رشید پارہ نے بتایا کہ راجپورا اسپتال کے ڈاکٹروں نے فیضان کی شناخت کرنے کے بعد ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ضلع اسپتال تک پہنچنے تک شاید ہی وہ زندہ بچ پائے ، ہم نے پوری کوشش کی ، لیکن بدقسمی سے اس میں جان بچی نہیں تھی۔ اس کے بعد پارہ اور اسپتال کے اسٹاف نے خان کو بلانے کا فیصلہ کیا۔

پارہ نے بتایا کہ فیضان اسی اسپتال میں پیدا ہوا تھا اور یہیں کے کیمپس میں اس کا بچپن گزرا تھا۔ ہم نے خان کو اس کے بیٹے کے بارے میں بتائے بغیر ہی بلایا اور جب اس کی لاش کو کفن میں لپیٹا جارہا تھا ، تب تک اسے ایک کمرے کے اندر ہی رکھا۔ جب خان پورے اسٹاف سے گھرے ہوئے تھے ، تب انہیں بیٹے کی موت کے بارے میں بتایا گیا۔ بقول پارہ ، وہ زخمیوں کے وارڈ میں بیٹے کو دیکھنے گئے اور ان کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا۔ ہم سب کی آنکھوں میں آنسو تھے ، قسمت اسے اسی اسپتال میں لے کر آئی جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ فیضان کی لاش کو تدفین کیلئے اس کے آبائی گاوں لادو لے جایا گیا۔
 


Share: